Urdu Poetry : Main Tanhaai Pehanta Hoon ( میں تنہائی پہنتا ہوں ) – Mohsin Naqvi │ Hindi Poetry

Poem: Main Tanhaai Pehanta Hoon ( میں تنہائی پہنتا ہوں )
Poet: Mohsin Naqvi
Voice: M.Usman Ali
میں تنہائی پہنتا ہوں
اداسی کے اجاڑ آنگن میں چُنتا ہوں,
کٹھن محرومیوں کے زرد پتوں کو
مری آنکھوں میں جگراتے بھرے ایک مدت سے
مرے ہونٹوں پہ چسپاں ہیں چٹختی ہچکیاں
چہرے پہ کھلتی کھیلتی دکھتی خراشیں ہیں
میں اپنی ذات میں اجڑے ہوئے گاوں کا میلہ ہوں
!!مرے یارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے ساتھ رہ کر بھی اکیلا ہوں
مری سنگت میں مت بیٹھو
تمہیں تو خود سنورنا ہے
تمہاری خواہشوں کے بام و در پہ روشنی کے پھول کھلنا ہیں
تمہیں لکھنا ہے اپنی سانس کی گرمی سے
نیندوں کا سفر نامہ
مری سنگت میں مت بیٹھو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *